حضرت آدمؑ کے بعد، حضرت نوحؑ وہ پہلے پیغمبر ہیں جنہیں "رسالت" کے منصب سے سرفراز کیا گیا۔ صحیح مسلم (بابِ شفاعت) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
"یَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الْأَرْضِ"
(اے نوح! تم زمین پر اللہ کے بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہو)"
جس انسان پر خدا کی وحی نازل ہوئی ہے وہ نبی ہے اور جس کو جدید شریعت بھی عطا کی گئی ہو، وہ رسول ہے۔
نسب نامہ
علم الانساب کے ماہرین نے حضرت نوحؑ کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے:
نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ یا خنوخ بن یارد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیثؑ بن آدمؑ۔
قرآنِ مجید میں حضرت نوحؑ کا تذکرہ
قرآنِ مجید کے معجزانہ کلام کی یہ سنت ہے کہ وہ تاریخی واقعات میں سے جب کسی واقعہ کو بیان کرتا ہے تو اپنے مقصد "وعظ و نصیحت " کے پیشِ نظر واقعات کو اُن ہی جزئیات کے ساتھ ذکر کرتا ہے جو مقصد کے لیے ضروری ہیں اور اجمال و تفصیل اور تکرارِ واقعہ بھی صرف اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ اور وہ بھی "موعظت و عبرت" کے مقصد سے۔ عالی اسلوبِ بیان کے مطابق قرآنِ مجید میں حضرت نوحؑ کے واقعہ کا اجمال و تفصیل بار بار دہرایا گیا ہے، جسے مختصر و مفصل جدول میں یوں دکھایا گیا ہے:
🔹 حضرت نوحؑ کا تذکرہ درج ذیل سورتوں اور آیات میں آیا ہے:
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
لیکن اس واقعہ کی اہم تفصیلات صرف سورۃ اعراف، ہود، مؤمنون، شعراء، قمر، اور سورۃ نوحؑ میں بیان ہوئی ہیں۔ ان سے حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کے متعلق جس قسم کی تاریخ بنتی ہے، وہ ذیل میں مذکورہے۔ قومِ نوحؑحضرت نوحؑ کی بعثت سے پہلے تمام قوم خدا کی توحید اور صحیح مذہب کی روشنی سے کم و بیش ناآشنا ہو چکی تھی، اور حقیقی خدا کی جگہ خود ساختہ بتوں نے لے لی تھی، غیر اللہ کی پرستش کا رواج عام تھا۔ دعوت و تبلیغ اور قوم کی نافرمانیآخرسنت اللہ کے مطابق ان کے رشد و ہدایت کیلئے ان ہی میں سے ایک ہادی اور خدا کے سچے رسول نوحؑ کو مبعوث کیا گیا۔ حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو راہ حق کی طرف بلایا اور سچے مذہب کی دعوت دی، لیکن قوم نے نفرت و حقارت کے ساتھ انکار پر اصرار کیا، بلکہ امام اور رہنما نے اُن کی انتہائی حقیر نگاہوں سے بےادبی و تمسخر کا کوئی پہلو نہ چھوڑا اور ان کے پیرو کاروہی بنے جن کی تقلید و پیروی میں سردار طبقہ توہین محسوس کرتا تھا۔ مگر حضرت نوحؑ نے بار بار اللہ کا یہ پیغام پہنچا کر سب کچھ واضح کیا کہ "تم نہ ہم پر دولت میں برتری حاصل کیے ہو، نہ وسائل سے، بلکہ ایک عام انسان ہو اس کا یہی حق ہے کہ وہ ہمارا پیغام سمجھ کر عمل کرے۔ وہ غریب ،کمزور افراد قوم کو جب حضرت نوحؑ کا تاحال اور پیروکار دیکھتے تو مغرورانہ انداز میں حقارت سے کہتے: | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حضرت نوحؑ اس کا ایک ہی جواب دیتے کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اللہ کے مخلص بندے ہیں، اگر میں اُن کے ساتھ بُرا سلوک کروں، جس کے تم خواہش مند ہو، تو خدا کے عذاب سے مجھے بچانے کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ میں ان کو دھتکار دوں تو میں ظالم ہوں۔ اُس کے یہاں اخلاص کی قدر ہے، امیر و غریب کا وہاں کوئی سوال نہیں ہے۔ نہ زبردستی ہے، میں اللہ کی ہدایت کا پیغام لے کر آنا ہوں، میں نے غیب دانی نہ جتلائی، نہ فرشتہ ہونے کا دعوی کیا، اور نہ رسالت و دعوت پر کوئی اجرت/معاوضہ مقرر کیا۔ لیکن جس کو تم مسکین، حقیر، کمزور، غلام، چھوٹا کہتے ہو، وہی دراصل نورِ خدا پر کامل ایمان لانے والے ہیں۔ تمہارے نگاہوں میں اُن کے فیصلے کی وہ حیثیت نہیں جو صاحبِ مال کی ہے، اوریہ تمہارے خیال میں بہتری و حکمت کے قابل نہیں۔ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو دین و خشیت کے ساتھ ہیں، نہ کہ رنگ و نسل، حضرت نوحؑ نے یہ بھی بار بار بتایا کہ مجھ کو اپنی اس تبلیغ، دعوت، اور رسالت و ہدایت میں نہ تمہارے مال کی خواہش ہے، نہ جاہ و منصب کی۔ میں اجرت کا طلب گار نہیں ہوں۔ اس خدمت کا حقیقی اجر و ثواب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور وہی بہترین قدردان ہے۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
**فَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرٗا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمۡ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ ٱلرَّأۡيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِن فَضۡلِۢ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كَٰذِبِينَ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ أَنُلۡزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمۡ لَهَا كَٰرِهُونَ وَيَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۚ وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْۚ إِنَّهُم مُّلَٰقُواْ رَبِّهِمۡ وَلَٰكِنِّيٓ أَرَىٰكُمۡ قَوۡمٗا تَجۡهَلُونَ وَيَٰقَوۡمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمۡۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌۖ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزۡدَرِيٓ أَعۡيُنُكُمۡ لَن يُؤۡتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيۡرًاۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا فِيٓ أَنفُسِهِمۡۖ إِنِّيٓ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ سورۃ ہود (آیات 27 تا 31) اردو ترجمہ:
تب اُن کی قوم کے سردار جو کافر تھے، بولے:
حضرت نوحؑ نے کہا: "اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے، اور میں ایمان لانے والوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ وہ یقیناً اپنے رب سے ملنے والے ہیں، لیکن میں تمہیں ایک جاہل قوم سمجھتا ہوں۔" "اور اے میری قوم! اگر میں انہیں (ایمان والوں کو) نکال دوں تو اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا؟ کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟ "اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، اور نہ ہی میں ان لوگوں کے بارے میں کہتا ہوں جنہیں تم حقارت سے دیکھتے ہو کہ اللہ ان کو کبھی بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو یقیناً میں ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔" بہرحال حضرت نوحؑ نے انتہائی کوشش کی کہ بدبخت قوم سمجھ جائے اور اللہ کی رحمت کی آغوش میں آجائے، مگر قوم نے نہ مانا۔ اور جس قدر اس جانب سے تبلیغ حق میں جدوجہد ہوئی، اسی قدر قوم کی جانب سے بعض عناصر میں سرکشی کا اظہار ہوا، اور بدزبانی اور تکلیف دہ کلمات کا استعمال کیا گیا۔ اور ان کے بڑوں نے عوام سے صاف صاف کہہ دیا کہ تم کس کی طرح ہو، عوام: بیوقوف، بےعقل، اور کم ظرف جیسے ہستیوں کی پرستش کو چھوڑ دو۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ يَـٰقَوْمِ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ أَنِ ٱعْبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّىۚ إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَّوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًۭا وَنَهَارًۭا فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًۭا وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓاْ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْاْ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّواْ وَٱسْتَكْبَرُواْ ٱسْتِكْبَارًۭا ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًۭا ثُمَّ إِنِّىٓ أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارٗا فَقُلْتُ ٱسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارٗا ہم نے جناب نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ تو انہوں نے اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ ان پر عذاب ہو نازل ہو، ڈرایا۔ انہوں نے سمجھنے سے انکار کیا، بالآخر رب سے ہار ماننا پڑی۔ پھر نوحؑ نے کہا: "اے رب! میں نے ان کو بلند آواز سے بھی بلایا، اور چپکے چپکے بھی کہا۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدّٗا وَلَا سُوَاعٗا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرٗا اور انہوں نے (اپنے عوام سے) کہا: "اے نوح! اب ہم سے جنگ و جدل نہ کرو، ہمیں اور تمہیں اس انکار پر اللہ کے عذاب کا انتظار ہے۔" قَالُواْ يَٰنُوحُ قَدْ جَٰدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٰلَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ یعنی انہوں نے نوحؑ سے کہا: حضرت نوحؑ نے یہ سن کر ان کو جواب دیا کہ: قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ نوحؑ نے کہا:
بہرحال جب قوم نے ہدایت سے بالکل نااُمیدی اختیار کر لی اور اس کی باطل پرستی اور عناد اور ہٹ دھرمی واضح ہو گئی، اور قرآنی نصرت کے مطابق حضرت نوحؑ کی دعوت و تبلیغ کا اُن پر کوئی اثر نہ رہا۔ دیکھا کہ سخت مایوس اور پریشان خاطر ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی کے لیے فرمایا: وَأُوحِىَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ اور نوحؑ پر وحی کی گئی کہ: جب حضرت نوحؑ کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان کے ابلاغِ حق میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ خود سامنے والوں کی استعداد کا قصور ہے، اور ان کو اپنی سرکشی کا نتیجہ جب ان کے اعمال اور کیفیتِ حرکات سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں یہ دعا فرمائی: رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرٗا كَفَّارًا
"اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے ایک بھی بسنے والا نہ چھوڑ۔ بناء سفینہاللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کی دعا قبول فرمائی، اور اپنے قانونِ جزا و اعمال کے مطابق سرکشوں کی سرکشی اور مجرموں کے مجرمانہ کردار کے سزا کا اعلان فرما دیا۔
وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَـٰطِبْنِى فِي ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ اے نوح! تو ہماری حفاظت میں، ہماری وحی کے مطابق سفینہ تیار کیے جا، اور اب مجھ سے ان کے متعلق کچھ نہ کہہ، یہ بلاشبہ غرق ہونے والے ہیں۔(سورہ ہود: آیت 37) جب وحیِ الٰہی کی تعمیل پوری ہوئی، آسمان کوحکم ہوا کہ پانی برسانا شروع کرے، اور زمین کے چشموں کو امر کیا گیا کہ وہ پوری طرح اُبل پڑیں۔ جب یہ سب کچھ ہوا، تو کشتی بھی حفاظت سے پانی پر ایک مدت تک تیرتی رہی،تمام منکرین و معاندین پانی میں غرق ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ کے قانونِ جزاءِ اعمال کے مطابق اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوهِ جودیغرض جب حکمِ الٰہی سے عذاب ختم ہوا تو سفینۂ نوحؑ "جودی" پہاڑ پر ٹھہر گیا۔ وَقِيلَ يَٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّۖ وَقِيلَ بُعْدٗا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ اور حکم پورا ہوا اور کشتی جودی پہ جا ٹھہری۔ اور اعلان کیا گیا کہ یہ قومِ ظالمین کے لیے ہلاکت ہے۔ توراة میں جودی کو اراراط کے پہاڑوں میں بتایا گیا ہے۔ اراراط درحقیقت جزیرہ کا نام ہے (یعنی اُس علاقۂ کا نام ہے جو فرات و دجلہ کے درمیان دیارِبکر سے بغداد تک ہے پانی آہستہ آہستہ خشک ہونا شروع ہوا، اور ساکنانِ کشتی دوسری بار امن و سلامتی کے ساتھ خدا کی سرزمین پر قدم رکھنے لگے۔ پھر حضرت نوحؑ کا لقب "آدمِ ثانی" (یعنی انسانوں کا دوسرا باب) مشہور ہوا، | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
0 comments:
Post a Comment
thanks