PLEASE Contact us to Learn Quran online
Tagged Under:

hazrat noh

By: islamic On: June 26, 2025
  • Share The Gag
  •  حضرت نوحؑ پہلے رسول ہیں

    حضرت آدمؑ کے بعد، حضرت نوحؑ وہ پہلے پیغمبر ہیں جنہیں "رسالت" کے منصب سے سرفراز کیا گیا۔ صحیح مسلم  (بابِ شفاعت) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

    "یَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الْأَرْضِ"
    (اے نوح! تم زمین پر اللہ کے بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہو)"

    جس انسان پر خدا کی وحی نازل ہوئی ہے وہ نبی ہے اور جس کو جدید شریعت بھی عطا کی گئی ہو، وہ رسول ہے۔

    نسب نامہ
    علم الانساب کے ماہرین نے حضرت نوحؑ کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے:
    نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ یا خنوخ بن یارد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیثؑ بن آدمؑ۔

    قرآنِ مجید میں حضرت نوحؑ کا تذکرہ

    قرآنِ مجید کے معجزانہ کلام کی یہ سنت ہے کہ وہ تاریخی واقعات میں سے جب کسی واقعہ کو بیان کرتا ہے تو اپنے مقصد "وعظ و نصیحت " کے پیشِ نظر واقعات کو اُن ہی جزئیات کے ساتھ ذکر کرتا ہے جو مقصد کے لیے ضروری ہیں اور اجمال و تفصیل اور تکرارِ واقعہ بھی صرف اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ اور وہ بھی "موعظت و عبرت" کے مقصد سے۔  عالی اسلوبِ بیان کے مطابق قرآنِ مجید میں حضرت نوحؑ کے واقعہ کا اجمال و تفصیل بار بار دہرایا گیا ہے، جسے مختصر و مفصل جدول میں یوں دکھایا گیا ہے:

    🔹 حضرت نوحؑ کا تذکرہ درج ذیل سورتوں اور آیات میں آیا ہے:

    نمبرسورۃ کا نامآیت/آیات
    1آلِ عمران33
    2النساء163
    3الانعاg83
    4التوبہ70
    5یونس71
    6ہود25 تا 49
    7الاسراء (بنی اسرائیل)3
    8مریم58
    9الانبیاء76
    10الاعراف59، 69
    11المؤمنون23
    12الفرقان37
    13الشعراء105، 120، 121
    14العنكبوت14
    15الأحزاب7
    16الصافات75، 82
    17ابراہیم9
    18ص12
    19غافر31، 35
    20الشورى13
    21ق12
    22الذاریات37
    23النجم52
    24الحج32
    25القمر9
    26الحديد26
    27التحریم10
    28سورۃ نوح1 تا 28

    لیکن اس واقعہ کی اہم تفصیلات صرف سورۃ اعراف، ہود، مؤمنون، شعراء، قمر، اور سورۃ نوحؑ میں بیان ہوئی ہیں۔ ان سے حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کے متعلق جس قسم  کی تاریخ بنتی ہے، وہ ذیل میں مذکورہے۔

    قومِ نوحؑ

    حضرت نوحؑ کی بعثت سے پہلے تمام قوم خدا کی توحید اور صحیح مذہب کی روشنی سے کم و بیش ناآشنا ہو چکی تھی، اور حقیقی خدا کی جگہ خود ساختہ بتوں نے لے لی تھی، غیر اللہ کی پرستش کا رواج عام  تھا۔

    دعوت و تبلیغ اور قوم کی نافرمانی

    آخرسنت اللہ کے مطابق ان کے رشد و ہدایت کیلئے ان ہی میں سے ایک ہادی اور خدا کے سچے رسول نوحؑ کو مبعوث کیا گیا۔

    حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو راہ حق کی طرف بلایا اور سچے مذہب کی دعوت دی، لیکن قوم نے نفرت و حقارت کے ساتھ انکار پر اصرار کیا، بلکہ امام اور رہنما  نے اُن کی انتہائی حقیر نگاہوں سے بےادبی و تمسخر کا کوئی پہلو نہ چھوڑا اور ان کے پیرو کاروہی بنے جن کی تقلید و پیروی میں سردار طبقہ توہین محسوس کرتا تھا۔ مگر حضرت نوحؑ نے بار بار اللہ کا یہ پیغام پہنچا کر سب کچھ واضح کیا کہ "تم نہ ہم پر دولت میں برتری حاصل کیے ہو، نہ وسائل سے، بلکہ ایک عام انسان ہو اس کا یہی حق ہے کہ وہ ہمارا پیغام سمجھ کر عمل کرے۔

    وہ غریب ،کمزور افراد  قوم کو جب حضرت نوحؑ کا تاحال اور پیروکار دیکھتے تو مغرورانہ انداز میں حقارت سے کہتے:
    "ہم ان کی طرح نہیں ہیں کہ تیرے تابع فرمان بن جائیں اور تجھے نجات یافتہ انسان سمجھ لیں"۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کمزور اور ذلیل لوگ نوحؑ کےاندھے مقلد ہیں، نہ یہ ذی راءے ہیں کہ ہماری طرح اپنی سمجھ سے کام لیتے اور نہ ہی شعوری حیثیت رکھتےہیں وہ حضرت نوحؑ کی بات کی طرف کبھی توجہ دیتے، تو ان سے اصرار کرتے کہ پہلے یہ لوگ (غریب افرادقوم) کو اپنے پاس سے نکالیں، تب ہم آپ سے بات  کریں گے، ہم  اور یہ! ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتے۔


    حضرت نوحؑ اس کا ایک ہی جواب دیتے کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اللہ کے مخلص بندے ہیں، اگر میں اُن کے ساتھ بُرا سلوک کروں، جس کے تم خواہش مند ہو، تو خدا کے عذاب سے مجھے بچانے کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ میں ان کو دھتکار دوں تو میں ظالم ہوں۔ اُس کے یہاں اخلاص کی قدر ہے، امیر و غریب کا وہاں کوئی سوال نہیں ہے۔ نہ زبردستی  ہے، میں اللہ کی ہدایت کا پیغام لے کر آنا ہوں، میں نے غیب دانی نہ جتلائی، نہ فرشتہ ہونے کا دعوی کیا، اور نہ رسالت و دعوت پر کوئی اجرت/معاوضہ مقرر کیا۔ لیکن جس کو تم مسکین، حقیر، کمزور، غلام، چھوٹا کہتے ہو، وہی دراصل نورِ خدا پر کامل ایمان لانے والے ہیں۔ تمہارے نگاہوں میں اُن کے  فیصلے کی وہ حیثیت نہیں جو صاحبِ مال کی ہے، اوریہ تمہارے خیال میں بہتری و حکمت کے قابل نہیں۔ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو دین  و خشیت کے ساتھ ہیں، نہ کہ رنگ و نسل، حضرت نوحؑ نے یہ بھی بار بار بتایا کہ مجھ کو اپنی اس تبلیغ، دعوت، اور رسالت و ہدایت میں نہ تمہارے مال کی خواہش ہے، نہ جاہ و منصب کی۔ میں اجرت کا طلب گار نہیں ہوں۔ اس خدمت کا حقیقی اجر و ثواب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور وہی بہترین قدردان ہے۔ 

    **فَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرٗا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمۡ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ ٱلرَّأۡيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِن فَضۡلِۢ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كَٰذِبِينَ ۝ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ أَنُلۡزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمۡ لَهَا كَٰرِهُونَ ۝ وَيَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۚ وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْۚ إِنَّهُم مُّلَٰقُواْ رَبِّهِمۡ وَلَٰكِنِّيٓ أَرَىٰكُمۡ قَوۡمٗا تَجۡهَلُونَ ۝ وَيَٰقَوۡمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمۡۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ۝ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌۖ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزۡدَرِيٓ أَعۡيُنُكُمۡ لَن يُؤۡتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيۡرًاۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا فِيٓ أَنفُسِهِمۡۖ إِنِّيٓ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ  سورۃ ہود (آیات 27 تا 31) 

     اردو ترجمہ:

    تب اُن کی قوم کے سردار جو کافر تھے، بولے:
    "ہم تو تمہیں اپنے جیسا ایک انسان ہی دیکھتے ہیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف اُن لوگوں نے کی ہے جو ہم میں پست حیثیت کے ہیں، وہ بھی سرسری نظر میں۔ ہم تم میں اپنے اوپر کوئی فضیلت نہیں دیکھتے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔"

    حضرت نوحؑ نے کہا:
    "اے میری قوم! اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں، اور اُس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا فرمائی ہو، جو تم پر چھپا دی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر زبردستی تھوپ دیں، حالانکہ تم اس سے ناخوش ہو؟"

    "اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے، اور میں ایمان لانے والوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ وہ یقیناً اپنے رب سے ملنے والے ہیں، لیکن میں تمہیں ایک جاہل قوم سمجھتا ہوں۔"

    "اور اے میری قوم! اگر میں انہیں (ایمان والوں کو) نکال دوں تو اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا؟ کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟

    "اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، اور نہ ہی میں ان لوگوں کے بارے میں کہتا ہوں جنہیں تم حقارت سے دیکھتے ہو کہ اللہ ان کو کبھی بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو یقیناً میں ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔"

    بہرحال حضرت نوحؑ نے انتہائی کوشش کی کہ بدبخت قوم سمجھ جائے اور اللہ کی رحمت کی آغوش میں آجائے، مگر قوم نے نہ مانا۔ اور جس قدر اس جانب سے تبلیغ حق میں جدوجہد ہوئی، اسی قدر قوم کی جانب سے بعض عناصر میں سرکشی کا اظہار ہوا، اور بدزبانی اور تکلیف دہ کلمات کا استعمال کیا گیا۔ اور ان کے بڑوں نے عوام سے صاف صاف کہہ دیا کہ تم کس کی طرح ہو، عوام: بیوقوف، بےعقل، اور کم ظرف جیسے ہستیوں کی پرستش کو چھوڑ دو۔

    إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝ قَالَ يَـٰقَوْمِ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ ۝ أَنِ ٱعْبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ۝ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّىۚ إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَّوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۝ قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًۭا وَنَهَارًۭا۝ فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًۭا۝ وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓاْ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْاْ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّواْ وَٱسْتَكْبَرُواْ ٱسْتِكْبَارًۭا۝ ثُمَّ  إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًۭا۝ ثُمَّ إِنِّىٓ أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارٗا ۝ فَقُلْتُ ٱسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارٗا ۝

    ہم نے جناب نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ تو انہوں نے اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ ان پر عذاب ہو نازل ہو، ڈرایا۔
    انہوں نے سچی ہم دردی کے ساتھ انہیں سمجھایا کہ:
    "میرے بندو! اللہ کے سچے وعدے پر بھروسہ رکھو، وہ کہتا ہے کہ میں اپنا عذاب بھیجنے سے پہلے دو حکم دوں گا، جو بھی تم نافرمان ہو، اور دوسرا حکم یہ کہ اگر تم توبہ کرو گے، تو وہ بخش دینے والا ہے، اللہ بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، بہت مہربان ہے۔"

    انہوں نے سمجھنے سے انکار کیا، بالآخر رب سے ہار ماننا پڑی۔
    رات و دن، اور پھر چپکے چپکے، بلند آواز سے، ہر طرح سے انہیں سمجھانے لگے۔
    نوحؑ نے جب مکمل بیان کیا، بلایا، انہیں ترغیب دی، تو کہنے لگے: "انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں، اور اپنے کپڑے لپیٹ لیے، اور موڑ لیا منہ، اور بڑھتے گئے انکار میں"۔

    پھر نوحؑ نے کہا: "اے رب! میں نے ان کو بلند آواز سے بھی بلایا، اور چپکے چپکے بھی کہا۔
    کہا: تم اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔"(سورۃ نوح)


    وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدّٗا وَلَا سُوَاعٗا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرٗا ۝

    اور انہوں نے (اپنے عوام سے) کہا:
    "ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو، اور نہ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑو۔"( یہ بتوں کے نام تھے)
    اور آخر میں نوحؑ کو کہنے لگے:

    "اے نوح! اب ہم سے جنگ و جدل نہ کرو، ہمیں اور تمہیں اس انکار پر  اللہ کے عذاب کا انتظار ہے۔"

    قَالُواْ يَٰنُوحُ قَدْ جَٰدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٰلَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

    یعنی انہوں نے نوحؑ سے کہا:
    "تم نے بہت جھگڑا کیا، اب بس کرو، اب اس عذاب کو لے آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو، اگر تم سچے ہو۔"

    حضرت نوحؑ نے یہ سن کر ان کو جواب دیا کہ:
    "عذاب الٰہی میرے قبضہ میں نہیں ہے، وہ تو اُس کے قبضہ میں ہے جس نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ چاہے گا تو یہ سب کچھ ابھی نازل ہو جائے گا۔"

    قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

    نوحؑ نے کہا:
    "ضرور اگر اللہ چاہے گا تو وہ تم کو ٹھہرا دے گا، تم اُسے عاجز کرنے والے نہیں ہو۔"

    بہرحال جب قوم نے ہدایت سے بالکل نااُمیدی اختیار کر لی اور اس کی باطل پرستی اور عناد اور ہٹ دھرمی واضح ہو گئی، اور قرآنی نصرت کے مطابق حضرت نوحؑ کی دعوت و تبلیغ کا اُن پر کوئی اثر نہ رہا۔

    دیکھا کہ سخت مایوس اور پریشان خاطر ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی کے لیے فرمایا:

    وَأُوحِىَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ۝

    اور نوحؑ پر وحی کی گئی کہ:
    "جو ایمان لے آئے، اب ان میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے، پس ان کی حرکات پر غم نہ کرو۔

    جب حضرت نوحؑ کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان کے ابلاغِ حق میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ خود سامنے والوں کی استعداد کا قصور ہے، اور ان کو اپنی سرکشی کا نتیجہ جب ان کے اعمال اور کیفیتِ حرکات سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں یہ دعا فرمائی:

    رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ دَيَّارًا ۝ إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرٗا كَفَّارًا ۝

    "اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے ایک بھی بسنے والا نہ چھوڑ۔
    بے شک اگر تُو نے انہیں چھوڑ دیا، تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے، اور بدکار و سخت ناشکرے ہی پیدا کریں گے۔"

    بناء سفینہ

    اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کی دعا قبول فرمائی، اور اپنے قانونِ جزا و اعمال کے مطابق سرکشوں کی سرکشی اور مجرموں کے مجرمانہ کردار کے سزا کا اعلان فرما دیا۔
    اور حفظِ مقدر کے لیے پہلے حضرت نوحؑ کو ہدایت فرمائی کہ وہ ایک کشتی تیار کریں تاکہ اسبابِ ظاہری کے اعتبار سے وہ اور مومنین  اس عذاب سے محفوظ رہیں۔ جو نافرمانوں پر نازل ہونے والاہے حضرت نوحؑ نے جب  کشتی بنانی شروع کی، تو کفار نے  مذاق اُڑانا شروع کر دیا۔اور جب کبھی ان کو ادھر سے گذرتے ہوئے دیکھتے، تو کہتے: "نوح! تم اگریقیناً نبی ہو، تو ہمیں عذاب کےدن کی خبر دو 
    حضرت نوحؑ بھی ان کی انجام کاری سے غفلت پر، نافرمانی پر جرءت دیکھ کر کوءی جواب نہ دیتے اپنے کام میں مشغول رہتےکیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کے ذہنی حال کا آگاه کر دیا تھا:

    وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَـٰطِبْنِى فِي ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ۝

    اے نوح! تو ہماری حفاظت میں، ہماری وحی کے مطابق سفینہ تیار کیے جا، اور اب مجھ سے ان کے متعلق کچھ نہ کہہ، یہ بلاشبہ غرق ہونے والے ہیں۔(سورہ ہود: آیت 37)
    آخر سفینۂ نوحؑ بن کر تیار ہو گیا۔ اب خدا کے وعدۂ عذاب کا وقت قریب آیا اور حضرت نوحؑ نے اس پہلی علامت کو دیکھا جس کا ذکر اُن سے کیا گیا تھا۔ یعنی زمین کی تہہ میں سے پانی کا چشمہ اُبلنا شروع ہوا۔ تب  وحیِ الٰہی کے ذریعےحکم سنایا گیا کہ کشتی میں اپنے خاندان کو بیٹھنے کا حکم دو اور تمام جانوروں میں سے ہر ایک کا ایک جوڑا کشتی میں پہنچا دینا  اور وہ مختصر جماعت (تصدیق کرنے والے افراد) بھی جو تجھ پر ایمان لا چکی ہے، کشتی میں سوار ہو جائے۔

    جب وحیِ الٰہی کی تعمیل پوری ہوئی، آسمان کوحکم ہوا کہ پانی برسانا شروع کرے، اور زمین کے چشموں کو امر کیا گیا کہ وہ پوری طرح اُبل پڑیں۔ جب یہ سب کچھ ہوا، تو  کشتی  بھی  حفاظت سے پانی پر ایک مدت تک تیرتی رہی،تمام منکرین و معاندین پانی میں غرق ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ کے قانونِ جزاءِ اعمال کے مطابق اپنے انجام کو پہنچ گئے۔


    کوهِ جودی

    غرض جب حکمِ الٰہی سے عذاب ختم ہوا تو سفینۂ نوحؑ "جودی" پہاڑ پر ٹھہر گیا۔

    وَقِيلَ يَٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّۖ وَقِيلَ بُعْدٗا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ۝

    اور حکم پورا ہوا اور کشتی جودی پہ جا ٹھہری۔ اور اعلان کیا گیا کہ یہ قومِ ظالمین کے لیے ہلاکت ہے۔

    توراة میں جودی کو اراراط کے پہاڑوں میں بتایا گیا ہے۔ اراراط درحقیقت  جزیرہ کا نام ہے (یعنی اُس علاقۂ کا نام ہے جو فرات و دجلہ کے درمیان دیارِبکر سے بغداد تک ہے

    پانی آہستہ آہستہ خشک ہونا شروع ہوا، اور ساکنانِ کشتی دوسری بار امن و سلامتی کے ساتھ خدا کی سرزمین پر قدم رکھنے لگے۔ پھر حضرت نوحؑ کا لقب "آدمِ ثانی" (یعنی انسانوں کا دوسرا باب) مشہور ہوا،






    0 comments:

    Post a Comment

    thanks