This table shows the verses in which the name of Prophet Adam (A.S) appears in the Holy Qur'an:
| S.No | Surah Number | Surah Name | Verses | Count |
|---|---|---|---|---|
| 1 | 2 | Al-Baqarah | 31, 33, 34, 35, 37 | 5 |
| 2 | 3 | Aal-e-Imran | 33, 59 | 2 |
| 3 | 5 | Al-Ma’idah | 27 | 1 |
| 4 | 7 | Al-A'raf | 11, 19, 20, 26, 27, 31, 35, 172 | 8 |
| 5 | 17 | Al-Isra | 61, 70 | 2 |
| 6 | 18 | Al-Kahf | 50 | 1 |
| 7 | 19 | Maryam | 58 | 1 |
| 8 | 20 | Ta-Ha | 115, 116, 117, 120, 121, 122 | 6 |
| 9 | 36 | Ya-Sin | 60 | 1 |
پیدائش آدم، فرشتوں کو سجدہ کا حکم، شیطان کا انکار
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کا خمیر تیار ہونے سے قبل ہی اس نے فرشتوں کو یہ اطلاع دی کہ وہ مٹی سے ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہے جو زمین میں خلیفہ بنے گی، اور جو اللہ تعالیٰ سے بڑا شرف حاصل کرے گی۔ آدمؑ کو مخصوص مٹی سے گوندھا گیا اور اسی مٹی سے گوندھا گیا جو بہت ہی تبدیلی قبول کرنے والی تھی، وہ مٹی ایسی تھی جس طرح آواز دیتی ہے اور کھنکتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس جسد خاکی میں روح پھونکی اور وہ یکدم ایک سجدہ لائق پُتلا بن گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اولاد انسان میں عقل، ارادہ، شعور، حس، اور روحانی صفات کا مکمل اظہار کر دیا۔ جب فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ، فوراً تمام فرشتوں نے تعمیل حکم کیا۔ لیکن (شیطان) نے غرور و تکبر کے ساتھ سجدہ سےانکار کر دیا
قرآن مجید کی کئی آیات میں اس واقعہ کا حصہ تحریر کیا گیا ہے۔
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ۔ وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ
اور پھر (دیکھیے) جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ آدمؑ کے آگے سر بسجود ہو جاؤ، وہ جھک گئے۔ مگر ابلیس نے گردن نہیں جھکائی۔ اس نے انکار کیا اور بڑائی جتائی۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ کافروں میں سے تھا۔(ایسا ہوا کہ) ہم نے آدمؑ سے کہا، اے آدمؑ! تو اور تیری بیوی دونوں جنت میں رہو، جس طرح چاہو، کھاؤ پیو، چین و راحت سے رہو، مگر دیکھو، ایک درخت کے پاس نہ پھٹکنا، اگر تم اس کے قریب گئے، تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے، جو زیادتی کرنے والے ہیں۔ (سورۃ الاعراف، آیت ۱۹)
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِّنَ السَّاجِدِينَ۔
اس پر سب جھک گئے، مگر ابلیس، کہ جھکنے والوں میں نہ تھا۔ (سورۃ الأعراف: 11)
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ ۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ وَذُرِّيَّتَهُۥ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِى وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۚ بِئْسَ لِلظَّـٰلِمِينَ بَدَلًا(سورۃ الکہف: 50)
اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ جنات میں سے تھا، تو وہ اپنے رب کے حکم سے باہر ہو گیا۔ کیا تم اُسے اور اُس کی اولاد کو اپنا دوست بناتے ہو میرے سوا، حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ ظالموں کے لیے تو یہ بہت ہی بُرا بدل ہے۔
إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌۭ بَشَرًۭا مِّن طِينٍۢ فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَـٰجِدِينَ فَسَجَدَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّآ إِبْلِيسَ ٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ
اور وہ وقت یاد کرو جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ"میں مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں پس جب میں اسے درست کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو سب کے سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔"تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا،(سورۃ ص: آیات 71–74)
اللہ تعالیٰ اگرچہ عالم الغیب اور دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے، اور ماضی، حال اور مستقبل سے باخبر ہے، مگر اس نے امتحان و آزمائش کے لیے ابلیس (شیطان) سے سوال کیا:
مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ
کس بات نے تجھے جھکنے سے روکا جب کہ میں نے حکم دیا تھا؟
ابلیس نے جواب دیا:
أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍۢ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍۢ
اس بات نے کہ میں آدم سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، اسے مٹی سے۔
شیطان کا مقصد یہ تھا کہ میں آدم سے افضل ہوں، اس لیے کہ مجھے آگ سے بنایا ہے، اور آگ بلندی و رفعت چاہتی ہے، اور آدم مخلوقِ خاک، یعنی مٹی ہے، بھلا خاک آگ سے کیا نسبت؟
اے خدا! پھر تیرا یہ حکم کہ جھک جا، کیوں کر مانوں؟
سجدہ کرے؟ کیا انصاف پر مبنی ہے؟
میں ہر حالت میں آدم سے بہتر ہوں، لہٰذا وہ مجھے سجدہ کرے، میں اس کے سامنے سر نہ جھکاؤں۔ مگر بدبخت شیطان اپنے غرور و تکبر میں یہ بھول گیا کہ جب دونوں خدا کی مخلوق ہیں، تو مخلوق کی حقیقت خالق سے بہتر خود وہ مخلوق بھی نہیں جان سکتی، وہ اپنی ممکنات سے قاصر رہ کر مرتبہ کی بلندی و پستی، اُس مادہ پر نہیں ہے جس سے کسی مخلوق کا جسم تیار کیا گیا ہے، بلکہ اُس کی ان صفات پر ہے جو خالقِ کائنات نے اس کے اندر ودیعت کی ہیں، بہرحال شیطان کا جواب چونکہ غرور و تکبر کی جہالت پر مبنی تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر واضح کر دیا۔ جہالت سے پیدا شدہ تکبر و غرور نے اُسے اندھا کر دیا، کہ تو اپنے خالق کے حقوق اور احترام خالقیت سے بھی منکر ہو گیا، اسے تجھے کو ظالم قرار دیا گیا۔ تیری جہالت نے تجھے حقیقت کے سمجھنے سے در ماندہ و عاجز بنا دیا ہے۔ پس تو اب اس سرکشی کی وجہ سے ابدی ہلاکت کا مستحق ہے، اور یہی تیرے عمل کی تند وتیز پاداش ہے۔
ابلیس کی طلب مہلت
ابلیس نے جب دیکھا کہ خالق کائنات کے حکم کی خلاف ورزی، تکبر و غرور، اور خدا سے تعالٰی پر ظلم کے الزام نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعین , رحمت سے مردود اور جنت سے محروم کر دیا، تو توبہ اور ندامت کی جگہ اللہ تعالیٰ سے استدعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت عطا کر اور اس طویل مدت کے لیے میری زندگی کی ڈور دراز کر دے۔ حکمتِ الٰہی کا تقاضا بھی یہی تھا، لہٰذا اس کی درخواست منظور کر لی گئی، لیکن اس کے بعد ایک مرتبہ اپنی شیطنت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: جب تُو نے مجھ کو راندۂ درگاہ کیا، تو اب قیامت تک مجھے یہ سزا نصیب ہوئی ہے، میں بھی آدم کی اولاد کو راہِ راست سے ہٹانے کے لیے پیچھے، آگے، دائیں اور بائیں ہر چار جانب سے ہجوم کروں گا، اور ان کو اکثریت کو، گمراہ کر دوں گا۔ نافرمان بناؤں گا، شکر گزار نہ چھوڑوں گا۔
" میرے مخلص بندے" تیرے،اغوا کے تیر سے گھائل نہ ہوں گے اور ہر طرح سے محفوظ رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "ہم کہہ چکے کہ ہمارا یہ فطری قانون (مکافاتِ عمل، پاداشِ عمل، اَعمال کا قانون) ہے، ابلیس جو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا، جو بھی آدم کی اولاد میں سے تیری پیروی کرے گا، وہ تیرے ساتھ ہی عذاب میں (جہنم کا) شریک ہوگا۔ جا، اپنی ذلت اور شرعی لعنت کے ساتھ یہاں سے دور ہو، اور اپنی اور اپنے پیروؤں کی ابدی لعنت (جہنم کا) منظر دیکھ۔"
قرآنِ مجید میں ذیل کی آیات ان ہی تفصیلات پر روشنی ڈالتی ہیں:
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ ﴿١٢﴾ قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ ﴿١٣﴾ قَالَ أَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿١٤﴾ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ﴿١٥﴾ قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿١٦﴾ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ﴿١٧﴾ قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَّدْحُورًا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿١٨﴾
آیت 12:
(اللہ نے) فرمایا: "تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہ کرے، جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا؟"
(ابلیس) بولا: "میں اُس سے بہتر ہوں، تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔"
آیت 13:
(اللہ نے) فرمایا: "تو یہاں سے اُتر جا، تجھے یہ حق نہیں کہ یہاں تکبر کرے، پس نکل جا، یقیناً تو ذلیلوں میں سے ہے۔"
آیت 14:
(ابلیس) نے کہا: "مجھے مہلت دے اُس دن تک جب لوگ دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔"
آیت 15:
(اللہ نے) فرمایا: "تجھے مہلت دی گئی ہے۔"
آیت 16:
(ابلیس) نے کہا: "پس چونکہ تُو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرور تیرے سیدھے راستے پر ان کے لیے بیٹھوں گا۔"
آیت 17:
"پھر میں ان کے پاس آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا، اور تُو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔"
آیت 18:
(اللہ نے) فرمایا: "نکل جا یہاں سے ذلیل و مردود ہو کر، جو بھی ان میں سے تیرا پیروکار ہوگا، میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔"سورۃ الأعراف
قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ﴿٣٢﴾ قَالَ لَمْ أَكُن لِّيَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ﴿٣٣﴾ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ﴿٣٤﴾ وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٣٥﴾ قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿٣٦﴾ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ﴿٣٧﴾ إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ﴿٣٨﴾ قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٣٩﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿٤٠﴾ قَالَ هَٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ ﴿٤١﴾ إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ ﴿٤٢﴾ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٤٣﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟"
اس نے کہا: "مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے خشک سڑی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔"
اللہ نے فرمایا: "تو یہاں سے نکل جا، تو راندۂ درگاہ ہے، اور تجھ پر قیامت تک لعنت ہے۔"
اس نے کہا: "اے میرے رب! مجھے قیامت تک مہلت دے۔"
فرمایا: "تو مہلت پانے والوں میں سے ہے، اس مقررہ وقت تک کے لیے۔"
ابلیس نے کہا: "اے میرے رب! چونکہ تُو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ان کے لیے زمین میں (گناہوں کو) خوشنما بناؤں گا، اور میں ان سب کو ضرور گمراہ کر دوں گا۔"
"سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خاص خلوص کے ساتھ چن لیا ہو۔"
اللہ نے فرمایا: "یہی سیدھا راستہ ہے، جو مجھ تک پہنچاتا ہے۔"
"میرے وہ بندے جنہیں تو نے مخلص پایا، ان پر تیرا زور نہیں چلے گا، البتہ جو گمراہ ہوں گے وہ تیرا پیروکار بنیں گے۔"
"اور یقیناً جہنم ان سب کا وعدہ کردہ انجام ہے۔"
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا ﴿٦١﴾ قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٦٢﴾ قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا ﴿٦٣﴾ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۚ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا ﴿٦٤﴾ إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا ﴿٦٥﴾
سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء) آیات 61 تا 65
اور (یاد کرو) جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا: “آدم کے آگے جھک جاؤ!” تو سب جھک گئے، مگر ایک ابلیس نے جھکا، اس نے کہا: “کیا میں ایسے شخص کے آگے جھک جاؤں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے؟” (پھر) اس نے کہا: “اچھا! یہ بتا کہ یہ شخص جسے تو نے مجھے پر ترجیح دی، اگر تو مجھے قیامت تک کی مہلت دے دے، تو میں اس کی پوری نسل کی جڑ کاٹ کر رکھ دوں گا، سوائے چند ایک کے۔”
اللہ نے فرمایا: “اچھا! جا، ان میں سے جو بھی تیرے پیچھے چلے، تو ان سب کے لیے جہنم ہی پوری سزا ہے، جو بھرپور سزا ہے۔”
“تو جس کو قابو میں لا سکے، اپنی آواز سے بہکا لے، ان پر اپنے سواروں اور پیادوں سے حملہ کر، مال اور اولاد میں ان کا شریک بن، اور ان سے وعدے کر۔”
اور شیطان تو ان سے صرف دھوکے کے وعدے ہی کرتا ہے۔
“یقیناً میرے (مخلص) بندے، ان پر تیرا قابو نہیں چلے گا۔”
اور تیرا رب کارساز و نگہبان کافی ہے۔
قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ ﴿٧٥﴾ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ ﴿٧٦﴾ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ﴿٧٧﴾ وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٧٨﴾ قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿٧٩﴾ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ﴿٨٠﴾ إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ﴿٨١﴾ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٢﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿٨٣﴾ قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ ﴿٨٤﴾ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٥﴾
سورۃ صٓ (سورہ 38) کی آیات 75 تا 85
آیت 75:
(اللہ نے) فرمایا: "اے ابلیس! تجھے کس چیز نے روکا کہ تُو اُس کو سجدہ نہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا؟ کیا تُو نے تکبر کیا یا تو (واقعی) بڑوں میں سے ہے؟"
آیت 76:
(ابلیس) نے کہا: "میں اُس سے بہتر ہوں، تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اُسے مٹی سے۔"
آیت 77:
(اللہ نے) فرمایا: "تو یہاں سے نکل جا، بے شک تُو مردود ہے۔"
آیت 78:
"اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت ہے۔"
آیت 79:
(ابلیس نے) کہا: "اے میرے رب! مجھے اُس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔"
آیت 80:
(اللہ نے) فرمایا: "تجھے مہلت دی گئی۔"
آیت 81:
"ایک مقررہ وقت کے دن تک۔"
آیت 82:
(ابلیس نے) کہا: "پس تیری عزت کی قسم! میں اُن سب کو ضرور گمراہ کروں گا۔"
آیت 83:
"سوائے تیرے اُن بندوں کے جو خالص (اخلاص والے) ہیں۔"
آیت 84:
(اللہ نے) فرمایا: "تو حق ہے، اور میں حق ہی کہتا ہوں۔"
آیت 85:
"میں ضرور تجھ سے اور ان سب سے جو تیرے پیچھے چلیں گے، جہنم کو بھر دوں گا۔"
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم کو پیدا کرنا چاہا تو فرشتوں کو اطلاع دی کہ "میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں، جو اختیار و ارادہ کا مالک ہو گا، اور زمین میں جس کام کا تصور کرنا چاہے گا، کر سکے گا، اور اپنی ضروریات کیلئے اپنی مرضی کے مطابق کام کرے گا، یہ مخلوق میری قدرت اور میرے تصرف و اختیارات کا مظہر ہو گی۔" فرشتوں نے سجدہ تو کر لیا لیکن دل میں کھٹکا، اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ اس کی پیدائش کی حکمت یہ ہے کہ وہ دن رات تیری نافرمانی میں مصروف رہے، اور زمین کو فساد سے بھر دے؟ یہ نکتہ ان کی عقلیت ہے، جس کی بنیاد پر انہوں نے اعتراض کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: "میں جو کچھ جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔"
جب یہ مخلوق تیار ہو گئی، تو اس کے لیے ہم نے خاص علم، جبر و قہر، حسن و جمال، اور رحمت و شفقت کا مجموعہ بنایا، اور پھر اس بشر کو لے کر زمین پر بھیجا۔ اور یہ امتحان ہے کہ زمین میں رہ کر نیکی اور برائی کو پہچان کر کے کیا کرتا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔
پھر ابلیس نے انکار کر دیا، اور کہا کہ میں اس خلیفہ کو ناپاک مٹی سے پیدا کیے گئے بشر پر کیسے فوقیت دے سکتا ہوں، جس کی اصلیت کی حقیقت حال سے ظاہر ہے؟ یہ کھنکنے والی، ٹھنڈی، بےنور، بےشعور مٹی کی مخلوق ہے، اور وہ (یعنی ابلیس) آگ کی مخلوق ہے جس میں بلندی اور بڑائی کا پہلو نکلتا ہے۔
تو نافرمان ٹھہرا، جس نے کہا: "میں بہتر ہوں، اور اُس کے سجدہ کرنے پر مجبور نہیں ہوں۔"
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ ۖ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ(سورۃ البقرۃ: آیت 30)
اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا:
"میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں"،
تو انہوں نے کہا: "کیا تُو اُس کو بنائے گا جو زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا؟
حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں!"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔"
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٣١﴾ قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ﴿٣٢﴾ قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ ۖ فَلَمَّا أَنبَأَهُم بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ﴿٣٣﴾ (سورۃ البقرۃ: آیات 31-33):
جواب میں کہا: "اے ہمارے رب! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے۔"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے آدمؑ! ان (فرشتوں) کو اُن سب اشیاء کے نام بتاؤ۔"
پس جب آدمؑ نے بتا دیے، تو اللہ نے فرمایا: "کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہوں..."
حضرت آدم علیہ السلام کو صفت "علم" سے اس طرح نوازا گیا کہ فرشتوں کیلئے بھی ان کی برتری اور استخلافِ خلافت کے آثار کے دلائل چارہ کار نہ رہا۔ اگر آدمؑ نہ بنیں، تو اللہ تعالیٰ کے خلیفہ بنائے جانے کا تقاضا کیسے تمام چیزوں میں آشنا ہو سکتا؟ اور نہ ہی قدرت نے جو خزانہ علوم و ودیعت کیے ہیں، ان سے کسی کا واقف ہونا ممکن ہے۔
لہٰذا یہ کہہ دینا کہ زمین کے متاع میں ودیعت شدہ رزق اور خزانوں کی تخم ریزی فرشتے کریں گے، درست نہیں، کیونکہ یہ تصرف بندہ بشر مخصوص کے لیے خاص ہان کے تصرف کے معانیات اشیاء کے خواص، کیمیا کی حرکات، نہادِ طبقات، فلقیات، طبیعی اجزاء، علومِ نفسیات، وہ وحدانیات اور کیفیات کی پہچان، علاوہ ازیں علومِ مخزونہ کے اسرار و رموز کی تکمیل سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف حضرتِ انسانؑ کے لیے میزان رکھا گیا، وہی خدا کا خلیفہ ہے، اور ان تمام حقائق و معارف اور علوم و فنون سے واقف، جو کہ نیابتِ الٰہی کا سچ ثبوت ادا کرے
حضرت آدمؑ کا قیام جنت اور حوّا کی زوجیت
حضرت آدم علیہ السلام ایک عرصہ تک تنہا زندگی بسر کرتے رہے، مگر اپنی زندگی اور راحت و سکون میں ایک دُھند اور خلاء محسوس کرتے تھے اور ان کی طبیعت اور فطرت کی مونس و ہمدم ہی جو ایک نظر آتی تھی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حوّا علیہا السلام کو پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کو اُن پر محبت اور انس کا جذبہ مسرور، مزید قرار اور اطمینان قلب محسوس ہوا۔ حضرت حوّا کو اجازت تھی کہ وہ جنت میں رہیں، کھائیں اور اُس کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائیں، مگر ایک درخت کو معین کر کے بتا دیا گیا کہ اس کو نہ کھائیں بلکہ اُس کے پاس تک نہ جائیں۔
آدم کا جنت سے نکلنا
ابلیس کو ایک موقعہ ہاتھ آیا، اور اُس نے حضرت آدمؑ و حوّا کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ یہ "شجرِ خُلد" ہے، اس کا پھل کھانے میں سرمدی آرام و سکونت اور قربِ الٰہی کا ضامن ہے، اور تمہیں بادشاہ بنا دے گا، چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے انسانی و بشری خواص میں سب سے پہلے "نسیان" (بھول چوک) نے ظہور کیا، اور وہ حکمِ الٰہی کو بھول بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم انتہائی ٹھوس تھا کہ یہ امتحان ہے، پھل کھا لیا، لباس کا احاطہ ترک کر دیا، اور آدمؑ و حوّا بے لباس ہو گئے۔("آدم و حوّا") دونوں پتوں سے ستر ڈھانکنے لگے۔گویا انسانی تمدن کا یہ آغاز تھا، کہ اُنھوں نے ڈھکنے کیلئے سب سے پہلے پتوں کو استعمال کیا۔اور اس طرح انسانوں کے باپ اور خداۓ تعالیٰ کے خلیفہ آدمؑ نے اپنی رفیقۂ حیات حوّا کے ساتھ خدا کی زمین پر قدم رکھا۔
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا ۖ وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿٣٥﴾ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٣٦﴾ فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿٣٧﴾ قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٣٨﴾
اور (یاد کرو) جب ہم نے کہا: "اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔"پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور انہیں اس نعمت سے نکلوا دیا جس میں وہ تھے۔اور ہم نے کہا: "اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقتِ مقرر تک ٹھہراؤ اور سامانِ زندگی ہے۔" پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات حاصل کیے، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یقیناً وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہےہم نے کہا: "تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا، اس پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"سورۃ البقرۃ آیات 35 تا 38
وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿١٩﴾ فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ ﴿٢٠﴾ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ ﴿٢١﴾ فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٢٢﴾ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٢٣﴾ قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٢٤﴾ قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ ﴿٢٥﴾
آیت 19:
اور (ہم نے فرمایا:) اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو، اور جہاں سے چاہو خوب کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔
آیت 20:
پھر شیطان نے ان دونوں کو وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپی ہوئی تھیں، کھول دے، اور کہا: تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا ہمیشہ زندہ نہ رہو۔
آیت 21:
اور اس نے ان دونوں کے ساتھ قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا سچا خیرخواہ ہوں۔
آیت 22:
پس اس نے دھوکے سے ان کو بہکا دیا۔ جب ان دونوں نے درخت کا ذائقہ چکھا، تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں، اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر لپیٹنے لگے۔
اور ان کے رب نے انہیں پکارا: کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟ اور کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟
آیت 23:
انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے، تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
آیت 24:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقتِ مقرر تک ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے۔
آیت 25:
فرمایا: اسی (زمین) میں تم زندہ رہو گے، اور اسی میں مرو گے، اور اسی سے (قیامت کے دن) نکالے جاؤ گے۔سورۃ الأعراف (آیات 19 تا 25)
وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَىٰ آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ﴿١١٥﴾ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ ﴿١١٦﴾ فَقُلْنَا يَا آدَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰ ﴿١١٧﴾ إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَىٰ ﴿١١٨﴾ وَأَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ ﴿١١٩﴾ فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ ﴿١٢٠﴾ فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ ﴿١٢١﴾ ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ ﴿١٢٢﴾ قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ ﴿١٢٣﴾
اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے آدمؑ کو پہلے سے عہد لے کر یہ بات بتا دی تھی، مگر وہ بھول گیا اور ہم نے (ان میں عہد کی) پختگی نہ پائی۔ پھر یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو، تو سب جھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا، ہم نے کہا: "اے آدمؑ! یہ تمہارا دشمن ہے اور تمہاری بیوی کا بھی، ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے، پھر تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔"(یعنی) یہاں نہ بھوکے رہو گے، نہ ننگے، نہ پیاسے ہو گے، نہ دھوپ کھاؤ گے۔لیکن شیطان نے وسوسہ اندازی سے بہکایا اور قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں، پس ان کو بہکا کر درخت کی طرف مائل کر دیا۔ پھر جب دونوں نے چکھا، تو ان کی شرم گاہیں ایک دوسرے پر ظاہر ہو گئیں اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانکنے لگے۔ اس وقت ان کے رب نے ان کو پکارا: "کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟" دونوں نے کہا: "اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں نہ بخشے اور رحم نہ کرے، تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔" اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اتر جاؤ، تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنے اور جینے کا سامان ہے۔" (یعنی زندگی کی عمل) پھر فرمایا: "اسی زمین سے تم پیدا کیے جاؤ گے اور اسی میں لوٹائے جاؤ گے اور اسی سے دوبارہ نکالے جاؤ گے۔" (یعنی قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھو گے) پھر ہم نے فرمایا: "اے آدم! جب کبھی میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے وہ نہ گمراہ ہوں گے اور نہ بدبخت ہوں گے سورۃ طٰهٰ (سورہ 20)، آیات 115 تا 123